17 مئی 2010 - 19:30

حضرت آیت اللہ العظمی سبحانی نے کہا: امام زمانہ (عج) کا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگ ظلم و جور کی حکومتوں سے نا امید ہوجائیں اوز عوام کی ثقافتی اور فکری سطح اس قدر ترقی کرے کہ اہل بیت علیہم السلام کے مشتاق اور شیدائی بن جائیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی شیخ جعفر سبحانی نے کہا گذشتہ جمعرات (4 مارچ 2010) کے روز حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے حضرت سیدہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر میں سوال و جواب سیشن میں زائرین اور طلبہ کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ منتظرین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ  مشکلات اور مسائل و مصائب سے رہائی کا انتظار کرتے ہیں؛ انتظار کا مطلب تسبیح ہاتھ میں لے کر انتظار کے نعرے لگانا نہیں بلکہ ہم اگر منتظر ہیں تو ہمیں عملی صورت میں خودسازی اور اصلاح نفس کا اہتمام کرنا چاہئے اور امام زمانہ (عج) کے لئے انصار و اعوان کی تربیت کرنی چاہئے۔ انھوں نے امام زمانہ (عج) کے مقام رہائش کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہمارے لئے ثابت و مسلم ہوچکا ہے کہ امام زمانہ (عج) روئے زمین پر لوگوں کے درمیان طبعی زندگی گذار رہے ہیں اور حتی ہم امام (عج) کو دیکھتے ہیں تا ہم آپ (ع) کو پہچانتے نہیں ہیں۔ جزیرہ خضراء کے بارے میں بھی کہنا چاہوں گا کہ اس جزیرے کا وجود ہمارے لئے ثابت نہیں ہوسکا ہے۔آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی نے مسلمانوں کی وحدت کے بارے میں کہا: مسلمانوں کی وحدت کا بہترین راستہ یہ ہے کہ مشترکات کا سہارا لیں اور بہتر یہی ہے کہ اسلامی مذاہب کے پیروکار اختلافات کو علماء کے سپرد کریں؛ ہر مذہب کے پیروکار اختلافی مسائل میں اپنے مذہب کا اتباع کریں اور منازعات اور جھگڑوں سے پرہیز کریں۔ علمی مناظرہ الگ مسئلہ ہے اور لڑائی جھگڑا الگ مسئلہ ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں تا کہ تفرقے کے کنویں سے نجات پاسکیں اور ہمارے درمیان موجود دینی مشترکات اللہ کی مضبوط رسی ہیں جس کا سہارا لے کر ہم متحد ہوسکتے ہیں۔  (1) انھوں نے کہا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ "گو کہ اسلام نے انسانی حیات میں بڑی تبدیلیوں کا باعث ہوا ہے مگر اسلام کے پاس زندگی کے تمام مسائل کی راہ حل موجود نہیں ہے" اور اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا انسان اور معاشرے میں بعض ثابت امور ہیں اور اسلام کے ثابت احکام ان ہی ثابت امور کے لئے ہیں۔ معاشرے کی ایک ظاہری صورت اور ایک لباس ہے جو تبدیل نہیں ہوتا مگر اسلام کے احکام اس سلسلے میں بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: "طاقتور گھوڑوں کے ذریعے دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ" (2) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت کو قوی اور مقتدر ہونا چاہئے اور اس زمانے میں تو گھوڑے کا تصور نہیں ہے چنانچہ ہمیں آج کے زمانے کے مطابق آج کے وسائل کے ذریعے اپنے آپ کو اور اپنی حکومت کو تقویت پہنچانی پڑے گی۔ قم کے اس مرجع تقلید اور اسلامی مذاہب کے ماہر استاد نے وہابیت کے بارے میں کہا: وہابی فرقہ آج سے 4 صدیاں قبل سعودی عرب کے علاقے نجد میں محمد ابن عبدالوہاب کے توسط سے ظہور پذیر ہوئے مگر علاقے پر فرمانروائی عثمانیوں کی تھی اور عثمانی نہایت قوی اور طاقتور تھے چنانچہ وہابیت کو فروغ کے مواقع فراہم نہ آسکے؛ مگر جب عثمانیوں کی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور خطے میں چھوٹے چھوٹے ممالک اور ریاستیں تشکیل پائیں تو وہابیوں نے عثمانی سلطنت کے بعد حاصل ہونے والے استقلال اور تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے ذریعے وسیع تشہیراتی مہم اور دیگر سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہابیت نے اسلام پر بہت سے منفی اثرات مرتب کئے جن میں سے اہم منفی اثرات کچھ یوں ہیں:*  انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کا رتبہ گرایا؛*  لوگوں کو اہل بیت علیہم السلام کی محبت سے دور اور محروم کردیا؛*  اسلامی آثار کو منہدم کردیا جیسے: مقابر اولیاء و اصحاب و زوجات رسول (ص)، نبی اکرم (ص) اور اہل بیت (ع) اور اصحاب کے گھروں کو نیست و نابود کردیا؛*  انھوں نے یہ سارے مذموم اقدامات "شرک کے خلاف جنگ" کے بہانے سرانجام دیئے۔اسلامی آثار کی تخریب و انہدام کے باعث آئندہ زمانوں اسلام کا کوئی قدیمی اثر باقی نہ رہے اور اسلام کی حقیقت میں شکوک و شبہات اٹھانے کا امکان سر اٹھائے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سبحانی نے کہا: حکومت ہر زمانے میں ـ جس شکل میں بھی ہو ـ کتاب، سنت اور عقل پر مبنی ہونی چاہئے۔ اسلام ایسی حکومت چاہتا ہے جو اسلامی قوانین کو نافذ کرے اور لوگوں کو سعادت تک پہنچائے۔ حکومت کی شکل اسلام کے نزدیک بہت اہم نہیں ہے بلکہ اسلام کے لئے اہم چیز یہ ہے کہ اسلامی احکام ایک دیں شناس فقیہ کے زیرنگرانی نافذ ہوں۔ ..........1۔ وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ۔ کی طرف اشاره هی. )سوره آل عمران آیت 103(.2۔  وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ (سوره انفال آیت 60)اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان (دشمنوں) کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ اور اسی طرح چست و چالاک گھوڑوں کو بھی میدان جنگ کے لئے تیار رکھو تا کہ ان کے ذریعے اپنے دشمنوں کو بھی اور خدا کے دشمنوں کو بھی ڈرا سکو۔

...........................

/110